فکر و آگہی  
 

قرآن مجید کو فقہی، شرعی یامولویانہ انداز سے پڑھنے والوں نے کوئی پانچ سوآیات کوآیاتِ احکام کی حیثیت سے اپنے غوروفکر کا مستحق سمجھا تھا۔ اس طرف لوگوںکی توجہ کم ہی گئی کہ یہ علوم جو بنیادی طور پر ان پانچ سو آیات کو اپنی توجہ کا مستحق سمجھتے تھے، اس نے وحی ربانی کے ایک بہت بڑے حصے کو عملی طور پر علوم شرعی کے دائرے سے باہر کررکھاتھا۔ آیات اللہ فی الکون کے مطالعے اور مشاہدے کا علوم شرعی کے دائرے سے باہر ہوجانا ایک بحرانی عہد کی اجتہادی اور تعبیری لغزش تھی۔ جس نے آنے والی صدیوں میں امت کو تحقیق واکتشاف کے عمل سے دور کردیا۔ آیت احکام کے علاوہ قرآن مجید کے ایک بڑے حصے کو عملی طور پر منجمد کئے جانے کے نتیجے میں آج ہم من حیث الامتہ منصب سیادت سے معزول ہوگئے ہیں۔

********************

 

 

قرآن مجید کا از سرِنو کھولنا صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ انسانی تاریخ کے لئے بھی ایک بڑا وقوعہ ہوگا۔ اس میں شبہ نہیں کہ پیغمبرکے غیاب میں کتاب کا کھلنا اپنے اندر بڑا اندیشہ رکھتا ہے لیکن اسے کیا کیجئے کہ خدا کی اسکیم یہی ہے وہ یہ سمجھتا ہے کہ اب انسانی معاشرہ مجموعی طور پر اتنا بالغ ہوچکا ہے جہاں کسی پیغمبر کے غیاب میں بھی وہ وحئ  ربانی کی تجلیوں سے اپنی راہوں کومنور کرسکتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ اب خدا کوئی نبی نہ بھیجے گا۔ نبی کے غیاب میں خدا کی کتاب حجة من بعد الرسل کی حیثیت سے انسانوں کی رہنمائی کا کام انجام دیتی رہے گی۔

********************

 

 

کائنات ،جیسی کہ اللہ نے پیدا کی ہے اپنے اندر بے شمار اسرار و رموز کی حامل ہے۔ آسمان سے پانی کا برسنا اور اسی بارش سے اس سرزمین پر مختلف رنگوں کی فصلوں کا پیدا ہونا ایک ایسا مبہوت کردینے والا عمل ہے جس پر غورو فکر انسان پر خشیت الٰہی طاری کردیتی ہے۔ خدا خود یہ چاہتا ہے کہ اس کے اصحابِ علم بندے تسخیرِ کائنات کا یہ عمل جاری رکھیںکہ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں قرآن کی زبان میں اصل عالم کہا جاسکتا ہے: (انما یخشی اللہ من عبادہ العلمائ) ۔ اس کے برعکس اگر ہم صرف یہ فیصل کرنے بیٹھ گئے کہ دیگر قومیں جو تسخیرِ کائنات کا فریضہ انجام دے رہی ہیں ان کا کون سا عمل شریعت میں مباح ہے اور کون سا حرام؟ یا یہ کہ ان کی کن ایجادات کو لائق استعمال قرار دیا جاسکتا ہے اور کون سی ایجاد پر عدم جواز کا فتویٰ چسپاں کیا جاسکتا ہے؟ تو یہ ذہنی رویہ ہمیشہ ہمیں محض ان کے تعاقب میں مشغول رکھے گا اور ہم کبھی اس لائق نہیں ہوسکیںگے کہ دنیا ہماری اتباع اور اقتداءمیں چلے۔

********************

 

 

 قرآن مجید میں کشف کے بجائے سارا زور تدبر و تعقل پر ہے۔ قرآن کے نزدیک حقیقیی عالم وہی ہے جو ان آیات پر غور کرے کہ آسمان سے بارش کے چند قطرے ایک ہی زمین سے مختلف رنگوں اور اقسام کے پیڑ پودے کیسے اگاتے ہیں؟ اور اس عجیب و غریب انتظام قدرت پر اس کا دل خشیت الٰہی سے معمور ہوجائے۔ لیکن اس کے برعکس مسلم معاشروں میں عالم سے وہ لوگ مراد لئے جانے لگے جن کا نظم کائنات میں غورو فکر سے کوئی تعلق نہ تھا اور جو صرف اس حوالے سے عالم کہے جانے لگے تھے کہ انہوں نے اپنے مدارس میں ثانوی اسکول کی ڈگریوں کو عا لمیت کا نام دے رکھا تھا۔

********************

 

 

اسلام کی ابتدائی صدیوں میں ہماری کامیابی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ تب ہم ایک آفاقی تصورِ حیات کے حامل تھے۔ اہل ایمان کے دیگر طائفوں اور انبیائے سابقین کی باقیات کو ہم اپنا فطری حلیف خیال کرتے ایسا اس لئے کہ قرآن مجید نے ان سے موالات اور سماجی رابطوںکی نظری اساس فراہم کردی تھی۔ قرآن مجید کی وہ آیات جن میں طعام اہل کتاب کو حلال کیا گیا ہے اور جن میں کتابیہ عورتوں سے مومن مردوں کو نکاح کی اجازت دی گئی ہے ، وحی کے دفتین میں آج بھی موجود ہیں لیکن فقہائے سابقین کے بعض فیصلوں نے ان احکام کو عملی طور پر معطل کر رکھا ہے۔

********************
 

 

اب تک تعبیری التباسات سے دامن بچانے کی جتنی بھی کوششیں ہوئی ہیں وہ سنی اسلام کے مروجہ چار قالبوں کی تزئین و آرائش تک ہی محدود رہی ہیں۔ ہم اس بنیادی سوال سے اپنا دامن بچاتے رہے ہیں کہ کیا ان چار فقہاءکے بغیر کسی اسلامی زندگی کا تصور ممکن ہے؟ یہ وہ خیال ہے جس سے اصولی طور پر اتفاق کے باوجود عملی طور پر ہم اسے قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ اگر یہ چار فقہاءمن جانب اللہ دین اسلام کی اساس نہیں بنائے گئے ہیں تو آخر ان کے ترک کرنے سے ہماری دینی زندگی کیوں کر منہدم ہوجائے گی؟ کیا ان مدونہ جامد فقہی دوادین کے بغیر کوئی واقعی اسلامی معاشرہ قائم نہیں ہوسکتا؟

********************

 

 

تیرہ صدیوں پر مشتمل عظیم تعبیری ادب کا محاکمہ اگر وحی ربانی کی روشنی میں کیا جاسکے تو یہ ہماری تاریخ کاایک عظیم وقوعہ ہوگا۔ ہم ایسا محسوس کریں گے گویا ایک بار پھر عہد رسول کا اسلام ہماری نگاہوں کے سامنے منکشف ہوگیا ہو۔ دنیا میں ساری بڑی تبدیلیاں خیالات کے سہارے آتی ہیں۔ خیالات میں بڑی قوت ہوتی ہے۔ جس قوم کے پاس کوئی خیال نہ ہو اور جو صدیوں سے قدماءکی کتابوں پر حاشیہ در حاشیہ لکھنے کو علم کا معراج سمجھتی ہو اس کے لئے کسی نئی صبح کا کوئی وعدہ نہیں ہے۔ جہاں متوارث اسلام انسانوں کو فرقوں میں بانٹتا، شیوخ اور فقہاءکے خیموں میں منقسم کرتا، جماعتی اور گروہی ذہنیت کا اسیر بناتا وہیں حقیقی اسلام قرآن مجید کے بالمقابل تمام انسانی قرآنوں کے غیاب کی صدا بلند کرتا ہے۔ وہ ایک ایسی صورتحال کے قیام کی دعوت دیتا ہے جہاں خدا کی کتاب کے علاوہ تمام انسانی تالیفات ناقابل اعتبار قرار پاگئی ہوں۔ تمسک بالکتاب کا واقعی حق اسی ماحول میں ادا ہوسکتا ہے۔

********************

 

 

ہم مسلمان اگرایک سخت ایمان دارانہ محاسبہ پر آمادہ ہوسکیں تو ہمیں شاید یہ سمجھنے میں زیادہ دشواری پیش نہ آئے کہ اہل قبلہ کے مختلف گروہوں نے جس چیز کو وثوق و اعتماد سے تھام رکھا ہے وہ دراصل حبل اللہ نہیں بلکہ حبل الرجال یا حبل الاحبار ہے۔ وہ دین جو یہودی نصرانی جیسی شناختوں کو لائق استراد ٹھہراتا ہو اور جسے یہ بھی گوارا نہ ہو کہ متبعین محمد خود کو محمدی کی حیثیت سے پیش کریں بھلا اس دین میں اس بات کے لئے کیسے گنجائش نکل سکتی ہے کہ متبعین محمد خود کو حنفی شافعی، شیعہ سنی یا تحریکی اور جماعتی کہلاناگوارا کرلیں۔ ربانی معاشرے میں ان غیرربانی شناختوں کا ظہور گویا اس بات سے عبارت ہے کہ قرآن مجید نے جس حبل اللہ کو سختی سے تھامے رہنے کی تلقین کی تھی وہ اب ہمارے ہاتھوں سے بدقسمتی سے پھسل گئی ہے۔

********************

 

 

پچھلے بھی ہماری طرح انسان تھے جنھوںنے حتّی المقدور اپنے حالات میں انبیائی پیغام کو برتنے اور اس کی تحمیل کا خاطر خواہ شرف حاصل کیا ۔ ہم ان کے گرد تقدس کا ہالہ تعمیر نہ کریں تو ان کی لغزشیں ہمارے راستے میں فکری رکاوٹیں پیدا نہیں کریں گی اور ہم اپنے اندر وحی ربّانی سے اسی طرح اخذ و اکتساب کی ہمت پائےںگے جس طرح پچھلوں نے کیا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جہاں تاریخ canonization کا شکار ہوجائے اور راسخ العقیدہ فکر اس بات پر مُصر ہو کہ محمد رسول اﷲ کے ساتھ ہی خلفائے اربعہ، ائمہ اربعہ، ائمہ اثنا عشر ، ائمہ سبعہ وغیرہ کو بھی راسخ العقیدگی کا اظہار سمجھا جائے بھلا ایک ایسی راسخ العقیدگی کو وحی ربّانی کا صحیح شارح اور ترجمان کیسے سمجھا جاسکتاہے؟

********************

 

 

دنیا کے وہ بیس ممالک جن کے پاس تیل کے ذخائر کا ٪95 حصہ ہے ان میں بارہ مسلم ممالک شامل ہیں جن کے پاس مجموعی طور پر تیل کا ٪68 ذخیرہ موجود ہے۔ کچھ یہی حال قدرتی گیس کاہے جس کے نصف سے زائد زخائر مسلم علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ امت مسلمہ جو اس وقت 57 چھوٹے بڑے ملکوں کامجموعہ ہے نہ صرف یہ کہ جغرافیائی اعتبار سے اہم علاقوں میں واقع ہے بلکہ خود مغربی تہذیب کے عین قلب میں اب مسلمانوں کی قابل ذکر آبادی وجود میں آگئی ہے۔ اور سب سے اہم بات تو یہ کہ ہم مسلمان صرف تیل اور دوسرے فطری وسائل سے مالا مال نہیں بلکہ خدا کی آخری اور غیر محرف کتاب بھی ہمارے ہی درمیان موجود ہے۔ جزیرة العرب میں تیل کی یہ دولت ایک بڑی خدائی اسکیم کاحصہ ہے ۔

********************

 

 

اسلام کے حوالے سے صورتِ حال انتہائی امید افزا ہے۔ از کار رفتہ جامد تصورات ٹوٹ پھوٹ کی زد میں ہیں اور مسلم تاریخ میں پہلی بار اتنے اعتماد کے ساتھ انسانی تعبیرات کے تحلیل وتجزیہ کی کوشش کی جارہی ہے۔ ائمہ اربعہ کا مذہبی تصور جو تاریخ کے راستے ہماری فکر میں داخل ہوا اور جسے رفتہ رفتہ تقدیس کا حامل سمجھا جانے لگا آج پہلی بار کھلے عام مباحثے کی میز پرہے اور یہی حال ان بہت سی فقہی آراءکا ہے جن کے بار ے میں اب تک یہ خیال چلا آتا تھا کہ اسے پچھلوں کے اجماع نے ہمیشہ ہمیش کے لیے فیصل کر دیاہے۔ سچ پوچھئے تواہل اسلام اس وقت ایک زبردست فکری غلغلے کے جلو میں ہیں۔ گویا اسلام دو بارہ اپنی اصل بنیادوں پر بس اٹھا ہی چاہتاہے۔

********************

 

 

دین اسلام کی یہ تعبیر کہ اہل حق کے دوسرے طائفوں پر نجات کے دروازے بند ہیں اور یہ کہ اس قسم کی بشارت پر مشتمل قرآنی آیات منسوخ یا مؤل ہیں ایسی انسانی تعبیریں ہیںجنہیں حتمی صداقت کے طور پر قبول نہیں کیا جاسکتا۔ کلمة سواءکی بنیاد پر اہل حق کے طائفوں کو مجتمع کرنے میں یہ تعبیریں جو اپنا خاص ثقافتی اور سماجی پس منظر رکھتی ہیں مسلسل مزاحم ہوتی رہی ہیں۔ عالمی نظام انصاف کی قیادت کے لئے مسلمانوں کو ازسرنو اسی وسیع القلبی کا مظاہرہ کرنا ہوگا جس کا قرآن داعی ہے۔

********************

 

 
 

3

3

3

3
3
3

3

 

3

3
 
     
2009 Dr. Rashid, All Rights Reserved. Site Maintained by : Imteyaz

Privacy Policy